📖 سنو! یہ بھی ایک زندگی ہے — باب دوم: ادھوری خوشیوں کا سفر


 📖 سنو! یہ بھی ایک زندگی ہے

✍️ تحریر: محمد عبید درانی (UD)

باب دوم: ادھوری خوشیوں کا سفر

ماں کے بعد زندگی…

ویسی نہیں رہتی جیسی پہلے ہوتی ہے۔

کچھ خوشیاں آتی تو رہتی ہیں، مگر ان میں وہ بات نہیں ہوتی۔

ایک خلا… جو کبھی پُر نہیں ہوتا۔

والدہ کے جانے کے بعد، زندگی نے جیسے ایک نیا رخ لے لیا۔

گھر میں ذمہ داریاں بڑھ گئیں، اور حالات نے جلدی سمجھدار بنا دیا۔

اسی دوران میری شادی بھی ہو گئی۔

گھر میں بہن زیرِ تعلیم تھیں، بھائی اکثر باہر رہتے تھے،

تو ایک “گھر سنبھالنے والی موجودگی” کی ضرورت بھی تھی۔

شادی کے کچھ عرصے بعد، والد صاحب نے بھی دوسری شادی کر لی۔

میں نے کبھی اپنے والد کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا۔

انہوں نے ہمیشہ ہماری خاطر بہت کچھ کیا،

ہم سے محبت بھی کی اور اپنی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔

لیکن…

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دوسری شادی سے فرق پڑتا ہے۔

یہ ایک یونیورسل سچ ہے۔

اس کے باوجود، میں نے کبھی بے ادبی کا راستہ نہیں اپنایا۔

کیونکہ میں جانتا ہوں…

والدین انسان کے لیے سب کچھ ہوتے ہیں۔

ماں کے قدموں تلے جنت ہے،

اور باپ کی ناراضی انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی۔

اسی سوچ کے ساتھ میں نے زندگی کو قبول کیا…

اور آگے بڑھنا شروع کیا۔

مجھے شروع سے ہی سوشل کاموں کا شوق تھا۔

لوگوں کے کام آنا، کسی کی مدد کرنا،

یہ سب میرے دل کے قریب تھا۔

اسی شوق نے مجھے مختلف سوشل سرگرمیوں اور این جی اوز تک پہنچایا۔

میں نے کئی سال ایک ایسی شخصیت کے ساتھ گزارے جو سماجی خدمات میں نمایاں تھے۔

ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے میں نے نہ صرف تجربہ حاصل کیا بلکہ زندگی کو سمجھنا بھی سیکھا۔

آج بھی ان کے ساتھ ایک رشتہ اور وابستگی قائم ہے۔

ساتھ ساتھ میں نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی۔

بی اے، بی ایڈ، اور پھر ہومیوپیتھی میں تعلیم حاصل کی۔

زندگی کے ساتھ ساتھ، میں خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا رہا۔

لیکن زندگی ہمیشہ سیدھی نہیں چلتی…

کچھ فیصلے ایسے بھی ہوئے جو میرے حق میں نہیں تھے۔

کچھ ناانصافیاں بھی ہوئیں،

کچھ وعدے ٹوٹے،

اور کچھ اپنے بھی بدل گئے۔

مگر میں نے ایک چیز کو مضبوطی سے تھامے رکھا—

صبر۔

میں نے سیکھا کہ صبر صرف برداشت نہیں ہوتا،

یہ ایک طاقت ہے…

ایسی طاقت جو انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتی۔

میں نے بہت سے معاملات میں صبر کیا،

اور یہی صبر مجھے اندرونی سکون بھی دیتا رہا۔

میں مانتا ہوں…

غلطیاں صرف دوسروں کی نہیں تھیں،

میری بھی تھیں۔

میری صحبت بھی کبھی اچھی نہیں رہی،

کچھ غلط عادتیں بھی لگ گئیں تھیں۔

مگر جیسے جیسے میرے بچے بڑے ہوتے گئے،

ویسے ویسے میں بھی بدلتا گیا۔

میں نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی،

اور ایک بہتر انسان بننے کی طرف قدم بڑھائے۔

مجھے سفر کا بھی شوق رہا…

نئی جگہیں دیکھنا، لوگوں سے ملنا،

اور زندگی کو قریب سے محسوس کرنا۔

یہی شوق آگے چل کر “ایکسپلور” کرنے اور

اپنے تجربات دوسروں تک پہنچانے کا ذریعہ بھی بنا۔

آج بھی،

کسی کے کام آنا،

لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا،

اور اللہ کا خوف دل میں رکھنا—

یہی میری اصل پہچان ہے۔

"اگر یہ کہانی آپ کے دل کو چھو گئی ہو تو اسے دوسروں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔"

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حسد کیوں خطرناک ہے؟ دل، سوچ اور زندگی تباہ ہونے کی حقیقت

آخر سچا سبق یاد ہوا | صبر، قربانی اور اخلاق