اشاعتیں

جون, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کچے میں امن کا تاریخی قیام اور اب ترقی کا نیا سویرا: شہید سردار عاطف حسین خان مزاری گروپ کا عوام سے وعدوں کی وفا کا سفر

تصویر
 ​ضلع راجن پور اور بالخصوص کچے کا علاقہ دہائیوں تک خوف، عدم استحکام اور پسماندگی کا شکار رہا۔ لیکن وقت بدلا،  اور بدلتے وقت کے ساتھ قیادت کی نیت اور عزم بھی بدلا۔ جب مخلص قیادت میدان میں اترتی ہے، تو وہ صرف سیاست نہیں کرتی، بلکہ تاریخ رقم کرتی ہے۔ شہید سردار عاطف حسین خان مزاری گروپ نے حکومتِ پاکستان اور مقتدر اداروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کچے کو ہمیشہ کے لیے امن کا گہوارہ بنا دیا۔ ​آج کچے کی فضاؤں میں خوف کی جگہ سکون ہے، اور اسی امن کے مضبوط سنگِ بنیاد پر اب ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے—ایسا دور جہاں کیے گئے وعدوں کو حقیقت کا روپ دیا جا رہا ہے۔ ​👉 لازمی پڑھیں: کچے میں امن کے تاریخی قیام اور ہماری خصوصی امن ڈائری کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں: https://udexplorediaries.blogspot.com/2026/05/khiraj-e-tahseen-rajanpur-peace-poetry-ud.html ​جیسا کہ بلاگ کی بزم میں پہلے بھی لکھا گیا: ​امن کے دیپ جلائے ہیں جنہوں نے شبِ تار میں نام لکھا جائے گا ان کا ہر افتخار میں جو وعدے کیے تھے تم نے عوام سے کبھی آج وہ وعدے نظر آتے ہیں ہر بہار میں 🌿 (شاعری: محمد عبید درانی - UD) ​پہلا مرح...

اس وقت مٹھن کوٹ کا موسم۔

 

صبر کے بعد کی جدوجہد — امید، حوصلہ اور نئے سفر کی داستان

تصویر
 صبر کے بعد کی جدوجہد مختصر تعارف (Post Introduction) کبھی کبھی زندگی انسان کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں ہر راستہ بند دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جو لوگ صبر، ہمت اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں، وہ اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کر لیتے ہیں۔ یہ کہانی ایک ایسے ہی انسان کی جدوجہد، امید اور حوصلے کی داستان ہے۔ وہ حالات پر صبر تو کر چکا تھا، لیکن صبر کا مطلب یہ نہیں تھا کہ زندگی رک جائے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ صبر صرف خاموشی کا نام ہے، مگر حقیقت میں صبر انسان کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے اور دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔ وہ بھی ٹوٹا تھا، بکھرا تھا، مایوسی کے کئی موسم اس کی زندگی میں آئے تھے، لیکن اس نے اپنے آپ کو ختم نہیں ہونے دیا۔ اس کے دل میں ایک ہی فکر تھی: اس کے بچے۔ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ ہار مان لے گا تو اس کی اپنی زندگی ہی نہیں بلکہ ان معصوم خوابوں کا مستقبل بھی متاثر ہوگا جو اس کے بچوں کی آنکھوں میں پل رہے تھے۔ اسی لیے اس نے خود کو سنبھالا اور زندگی کے میدان میں دوبارہ قدم رکھا۔ وقت نے اسے ایک موقع دیا۔ شاید وہ موقع اس کی زندگی کا آخری سہارا تھا۔ اس موقع کے ساتھ ایک بات بار بار کہ...