“میں” — انسان کے اندر چھپا وہ غرور جو آہستہ آہستہ سب کچھ چھین لیتا ہے
“انسان کی سب سے بڑی ہار اُس کی انا ہوتی ہے، اور سب سے بڑی جیت اُس انا پر قابو پانا۔” — محمد عبید درانی (UD) “میں” — انسان کے اندر چھپا وہ غرور جو آہستہ آہستہ سب کچھ چھین لیتا ہے زندگی میں انسان بہت کچھ سیکھتا ہے… وقت اُسے سمجھ دیتا ہے، حالات اُسے مضبوط بناتے ہیں، لوگ اُسے بدل دیتے ہیں، اور تجربات اُسے خاموش کر دیتے ہیں۔ لیکن ان سب کے درمیان ایک چیز ایسی بھی ہے جو اگر انسان کے اندر حد سے زیادہ بڑھ جائے تو وہ اُس کی سوچ، رشتوں، سکون، اور شخصیت سب کو آہستہ آہستہ کھا جاتی ہے۔ وہ چیز ہے: “میں” یہ ایک چھوٹا سا لفظ ہے… مگر اگر یہ دل میں گھر کر جائے تو انسان کو اندر سے بدل دیتا ہے۔ شروع میں انسان صرف اپنی بات کو اہم سمجھتا ہے۔ پھر وہ اپنی سوچ کو سب سے بہتر ماننے لگتا ہے۔ پھر اُسے لگتا ہے کہ جو وہ کر رہا ہے وہی ٹھیک ہے۔ اور آہستہ آہستہ وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اُسے اپنی غلطیاں بھی غلط نہیں لگتیں۔ وہ دوسروں کو سنتا ضرور ہے… لیکن مانتا صرف خود کو ہے۔ پھر چاہے سامنے والا کتنا ہی سچا کیوں نہ ہو، کتنی ہی محبت سے سمجھا رہا ہو، کتنی ہی خیرخواہی سے بات کر رہا ہو… اُسے ہر بات اپنی مخالفت محس...