📖 سنو! یہ بھی ایک زندگی ہے (ابھی حساب باقی ہے)
📖 سنو! یہ بھی ایک زندگی ہے
(ابھی حساب باقی ہے)
✍️ تحریر: محمد عبید درانی (UD)
کہانی
بچپن…
ہر انسان کی زندگی کا وہ حصہ ہوتا ہے جہاں خوشیاں، بے فکری اور ماں کی گود سب کچھ ہوتی ہیں۔
مگر میرا بچپن… کچھ مختلف تھا۔ ادھورا سا… خاموش سا۔
مجھے آج بھی یاد ہے، جب میں بہت چھوٹا تھا تو میری والدہ ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہو گئیں جس نے ان کے قدم روک دیے۔ وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہو گئیں۔ بستر ان کی دنیا بن گیا… مگر محبت؟ وہ پہلے سے بھی زیادہ وسیع ہو گئی۔
ایک بچے کے لیے ماں صرف ماں نہیں ہوتی…
وہ اس کی طاقت، اس کا سہارا، اس کی پوری دنیا ہوتی ہے۔
اور جب وہ دنیا کمزور پڑ جائے… تو بچے کے اندر ایک خلا جنم لیتا ہے، جو عمر بھر ساتھ رہتا ہے۔
وہ تقریباً پندرہ سال اس بیماری سے لڑتی رہیں…
اور پھر ایک دن… خاموشی سے چلی گئیں۔
وہ دن… میری زندگی کا سب سے خاموش دن تھا۔
دوسری طرف والد ایک مصروف انسان تھے—
دن میں ڈاکٹر، رات میں سماجی مصروفیات۔
یوں ایک طرف بیمار ماں، دوسری طرف مصروف باپ…
اور میں… ان دونوں کے درمیان کہیں کھو گیا۔
لیکن میں ایک عام بچہ بھی تھا—
شرارتی، گرنے والا، ڈانٹ کھانے والا…
اور شاید… کچھ حد تک ذہین بھی۔
مگر مجھے کیا پتا تھا کہ میری زندگی بچپن سے ہی ایک “تجربہ گاہ” بننے والی ہے…
وقت گزرا…
اور زندگی نے مجھے جلدی بڑا کر دیا۔
ماں کے جانے کے بعد، خوشیاں بھی ادھوری ہو گئیں۔
گھر میں ذمہ داریاں بڑھ گئیں…
اور میں نے اپنی خواہشات کو ایک طرف رکھ کر دوسروں کے لیے جینا شروع کر دیا۔
کبھی میں حافظ بنا…
کبھی ڈسپنسر…
کبھی DHMS…
کبھی وکیل…
اور کبھی کچھ اور…
لیکن ایک چیز کبھی نہیں بدلی—
میری زندگی پر میرا اختیار کبھی نہیں رہا۔
میں نے محبت کی…
رشتوں پر یقین کیا…
دوستوں کو اپنا سمجھا…
اور ہر ایک پر جان نچھاور کرتا رہا۔
میں جا بجا ڈھونڈتا ہوں تمہیں
تم مل کر بھی نہیں ملتے
✍️ محمد عبید درانی (UD)
میں نے لاہور کے ایک گورنمنٹ کالج کے لیے دن رات محنت کی۔
695 نمبر لیے… مگر منتخب وہ ہوا جس کے 694 تھے۔
مجھے کہا گیا:
“سب باہر ہیں… تمہاری ضرورت ہے۔”
اسی ایک جملے نے… میری زندگی کا رخ بدل دیا۔
پھر زندگی نے ایک نیا امتحان لیا…
میں دوسروں کی ضروریات پوری کرتا رہا—
کاروبار سنبھالا، معاملات چلائے،
مگر میرے ہاتھ میں کبھی کچھ نہ آیا۔
ایک روپیہ بھی نہیں۔
لوگ سمجھتے رہے کہ میں عیش کر رہا ہوں…
مگر حقیقت؟
میں دوسروں کے لیے زندہ تھا۔
عشق سے گھائل ہوا، نہ گلہ کسی دھوکے کا
بے بسی ہی توڑ دیتی ہے ہر دل کے رشتوں کو
✍️ محمد عبید درانی (UD)
وقت گزرتا گیا…
سب نے اپنے حصے لے لیے…
کاروبار، جائیداد، پیسہ…
اور میں؟
میں صرف “ری کوری” کرتا رہا۔
پھر ایک وقت آیا جب سب کچھ ختم ہو گیا…
اور وہی لوگ دوبارہ واپس آئے۔
کہا گیا:
“نئے سرے سے شروع کرتے ہیں…”
ایک پلاٹ بیچا گیا… سب میں تقسیم ہوا…
کسی کو کاروبار ملا… کسی کو لاکھوں…
مگر مجھے؟
چار سال گزر گئے… کچھ نہیں ملا۔
جلتے پاؤں، ڈسا جسم، چھلنی جگر، خوف اے دل
اگر یہی تھی زندگی، تو حساب دے چکے ہم
✍️ محمد عبید درانی (UD)
آج حالت یہ ہے کہ
ہر ضرورت بھی مجھ سے…
اور ہر حساب بھی مجھ سے۔
میں تھک چکا ہوں…
مگر پھر بھی کھڑا ہوں۔
کیونکہ…
خوفِ دل، خوفِ زندگی، خوفِ موت
اک خوف چھوڑ کر کتنے خوف پال لئے
تو یاد آیا تو سب خوف مٹ گئے
ہم نے تیرے سوا سب سہارے ٹال لئے
✍️ محمد عبید درانی (UD)
میں نے زندگی سے ایک سچ سیکھ لیا:
جسم کی طرح دل بھی چادر کو دیکھے،
دل کے فیصلے اکثر نقصان دے جاتے ہیں۔
✍️ محمد عبید درانی (UD)
آج میں پیچھے دیکھتا ہوں تو لگتا ہے…
دیکھو تو سہی، سوچو تو سہی
ہم پر کیا گزری، اور ہم گزر گئے
✍️ محمد عبید درانی (UD)
میں نے سب کچھ دیا…
ماں کے بعد ملنے والی رقم بھی…
اپنا حق بھی… اپنی خواہشات بھی…
اور آج…
جب میں کہتا ہوں کہ میرے لیے کچھ کرو—
تو سب آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔
کوئی تو ویکسین ہوگی
اس وبائے منافقت کی
✍️ محمد عبید درانی (UD)
لیکن…
میں نے ایک چیز نہیں چھوڑی:
صبر۔
کیونکہ میں جان چکا ہوں:
👉 رشتے بدل جاتے ہیں
👉 لوگ بدل جاتے ہیں
👉 وقت بدل جاتا ہے
مگر…
اللہ نہیں بدلتا۔
ماچس جلتی دیکھی تو اچھا لگا مجھے
وہ خود کو جلا کر بھی مکمل ہو جاتی ہے
✍️ محمد عبید درانی (UD)
آج میں اپنے بچوں کے لیے جیتا ہوں…
یہی چاہتا ہوں کہ ان کے ساتھ وہ نہ ہو
جو میرے ساتھ ہوا۔
میں چاہتا ہوں:
ان کی زندگی آسان ہو…
ان کے خواب پورے ہوں…
اور آخر میں…
دل کے ہر سوال کا جواب باقی ہے،
ابھی زندگی کا ایک حساب باقی ہے۔
✍️ محمد عبید درانی (UD)
✨ اختتام… مگر حقیقت میں آغاز
یہ کہانی ختم نہیں ہوئی…
یہ ابھی جاری ہے۔
کیونکہ کچھ زندگیاں “اختتام” نہیں رکھتیں…
وہ صرف ایک جملہ کہتی ہیں:
“ابھی حساب باقی ہے…”
کچھ حساب وقت خود چکاتا ہے،
اور کچھ انسان ساری زندگی اٹھائے پھرتا ہے…
✍️ محمد عبید درانی (UD)
Original Writing | © All Rights Reserved


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں