زخم کا درد بھی کیا ہوگا، جتنا درد بے رُخی کا ہے

 زخم کا درد بھی کیا ہوگا،

جتنا درد بے رُخی کا ہے۔

✍️ اصل تخلیق: محمد عبید درانی (UD)



© All Rights Reserved | Copying without permission is prohibited



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حسد کیوں خطرناک ہے؟ دل، سوچ اور زندگی تباہ ہونے کی حقیقت

آخر سچا سبق یاد ہوا | صبر، قربانی اور اخلاق