"خاموشی کے اندر چلتی ایک کہانی"

 کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔

خاموشی اندر سے گھونٹ رہی تھی، اور تنہائی جیسے آہستہ آہستہ مجھے کھا رہی تھی۔

بے روزگاری اور فارغ بیٹھنا میرے ذہن کو تھکا چکا تھا۔

نہ کوئی اپنا تھا، نہ کوئی پرایا جو مجھے واقعی اپنے ساتھ بٹھا کر سنجیدگی سے سوچتا۔

میں نے دیکھا کہ اگر مجھے وہ چار سال پہلے کچھ مل جاتا، تو شاید آج میری زندگی کسی اور مقام پر ہوتی…

میں بھی کچھ بن چکا ہوتا، کچھ کر رہا ہوتا۔

لیکن مجھے صرف مشوروں، تاخیر اور “بعد میں دیکھیں گے” کے حوالے کر دیا گیا۔

جن لوگوں کے لیے میں نے سب کچھ قربان کر دیا تھا، میں نے ایک ایک کو جا کر کہا تھا:

“میرے لیے کچھ کریں… میری زندگی کو سمت دیں… میری روزی کا کچھ انتظام کریں…”

مگر آج تک کسی نے میری بات نہیں سنی۔

وقت گزر رہا ہے، مگر سمجھ نہیں آتا کہ کیسے گزر رہا ہے۔

کچھ بھی واضح نہیں… نہ راستہ، نہ روشنی۔

میں کبھی بچوں کو دیکھتا ہوں، اور کبھی خود کو…

اور سوچتا ہوں کہ میں تو وہ سب کچھ دینا چاہتا تھا جو میں خود سے محروم رہا۔

لیکن یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی…

یہ ابھی چل رہی ہے۔

✍️ تحریر: محمد عبید درانی (UD)

© All Rights Reserved | بغیر اجازت نقل کرنا منع ہے



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حسد کیوں خطرناک ہے؟ دل، سوچ اور زندگی تباہ ہونے کی حقیقت

آخر سچا سبق یاد ہوا | صبر، قربانی اور اخلاق