ایک گھر کی کہانی | قربانی، ذمہ داری اور بکھرتے رشتوں کا سفر, ایک گھر کی کہانی | قربانی، اعتماد اور ٹوٹتے ہوئے حسابات
یہ ہر گھر کی کہانی ہو سکتی ہے، مگر ہر دل پر بھاری ہے۔
ہمارے گھر میں بھی حالات کچھ ایسے ہی رہے۔
بڑے بھائی بچپن میں ہی آرمی بنال کالج ایبٹ آباد چلے گئے۔
گھر میں یہی سوچ بن گئی کہ اب بڑا بھائی باہر ہے تو باقی سب کی ذمہ داری بھی وہی سنبھالے گا۔
اسی سوچ کے تحت گھر کے تمام فیصلے، امیدیں اور ذمہ داریاں ایک ہی کندھے پر ڈال دی گئیں۔
میں نے اپنی ذاتی خواہش بھی قربان کر دی اور گورنمنٹ کالج (GC) جانے کا ارادہ چھوڑ دیا۔
میں نے اپنے ہی شہر میں پڑھائی شروع کی تاکہ گھر کے ساتھ رہ کر ذمہ داریاں نبھا سکوں۔
والد صاحب بھی حالات کے مجبور تھے، میں انہیں الزام نہیں دیتا۔
میں نے دن رات گھر کے معاملات سنبھالے، والد صاحب کے کاموں میں ہاتھ بٹایا، مہمانوں کی دیکھ بھال کی، اور ساتھ ساتھ پڑھائی بھی جاری رکھی۔
اسی دوران والد صاحب نے میرے ذریعے ایک چھوٹا سا کاروبار بھی شروع کروایا۔
پھر زندگی نے ایک بڑا صدمہ دیا — والدہ کا انتقال ہو گیا۔
یہ وقت بہت مشکل تھا مگر زندگی چلتی رہی۔
📌 بڑے بھائی کا معاملہ:
بڑے بھائی ایم بی اے کے دوران لاہور میں کاروبار شروع کرنے کی بات کرتے رہے۔
اسی دوران انہوں نے والد صاحب سے بینک کے ذریعے قرض لیا، جس پر سود (مارک اپ) بھی شامل تھا — جو ایک انتہائی حساس اور غلط مالی بوجھ تھا۔
لیکن ان پیسوں کا آج تک کوئی واضح حساب سامنے نہیں آیا کہ وہ کہاں گئے اور کیسے استعمال ہوئے۔
📌 میری قربانیاں:
میں نے اس گھر کے لیے جو کچھ بھی کیا، وہ سب کچھ والد صاحب کے حوالے کیا۔
مجھے پلاٹ سے جو پیسے ملے، وہ میں نے مکمل طور پر والد صاحب کو دے دیے
پانچ لاکھ روپے تک جو بھی میرے پاس آئے، وہ میں نے والد صاحب کے ہاتھ میں رکھے
میری سٹیپ مدر (آنٹی) اس بات کی گواہ ہیں کہ ایک روپیہ بھی میں نے اپنے پاس نہیں رکھا
امی کے بینک فنڈ اور جو بھی رقم ملی، وہ بھی میں نے گھر والوں کے حوالے کر دی
میں نے ہمیشہ یہی سوچا کہ یہ سب گھر اور خاندان کے لیے ہے۔
📌 نتیجہ:
اس سب کے باوجود مجھے آج تک محدود حساب میں رکھا جاتا ہے۔
کہیں دو تین لاکھ کی بات ہوتی ہے، کہیں چالیس چالیس لاکھ کے دعوے سامنے آتے ہیں۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کاروبار بھی بنایا گیا اور ذمہ داریاں بھی دی گئیں۔
میں نے ہر ممکن قربانی دی، مگر پھر بھی سوال باقی ہیں۔
📌 آخری بات:
یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی…
یہ ابھی چل رہی ہے۔
یہ ہر گھر کی ایک عام سی کہانی ہے، مگر ہر دل کے لیے بہت بھاری۔
ہمارے گھر میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
میرے بڑے بھائی بچپن میں ہی ساتویں کلاس کے بعد آرمی بنال کالج ایبٹ آباد چلے گئے۔
گھر میں سب کا یہی خیال تھا کہ اب بڑا بھائی باہر ہے، تو باقی سب کی ذمہ داری بھی وہی سنبھالے گا۔
اسی سوچ کے ساتھ گھر کے سب لوگ، خاص طور پر والدین، اپنی امیدیں اور خواب اس کے ساتھ جوڑ بیٹھے۔
ہم ایک مڈل کلاس فیملی تھے، وسائل محدود تھے، اس لیے سب کچھ ایک ہی کندھے پر ڈال دیا گیا۔
اسی دوران میں نے اپنی خواہش قربان کر دی۔
میں نے گورنمنٹ کالج (جی سی) جانے کا ارادہ چھوڑ دیا اور اپنے ہی شہر میں پڑھائی شروع کر دی۔
یہ فیصلہ میرے والد کا بھی تھا، مگر میں انہیں الزام نہیں دیتا۔
وہ بھی حالات کے مجبور تھے۔
اس دوران میں نے خود کو گھر اور ذمہ داریوں میں لگا دیا۔
دن کو والد صاحب کے کام میں مدد کرتا اور رات کو ان کے مہمانوں، دوستوں اور دیگر معاملات میں وقت دیتا رہا۔
ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی بھی جاری رکھی۔
پھر والد صاحب نے کسی حد تک ایک چھوٹا سا کاروبار بھی میرے ذریعے شروع کروایا۔
اسی عرصے میں ہماری زندگی کا سب سے بڑا صدمہ آیا — والدہ کا انتقال ہو گیا۔
یہ وقت بہت سخت تھا، مگر زندگی چلتی رہی۔
کچھ عرصے بعد بڑے بھائی نے ایم بی اے مکمل کر لیا اور مٹھنکوٹ واپس آ گئے۔
واپسی پر ان کی پہلی ترجیح نوکری تھی۔
وہ بار بار یہی کہتے رہے: “میری نوکری کروائیں، میری نوکری کروائیں…”
اس وقت سٹی کے ناظم فیض ملک صاحب ہمارے والد کے قریبی تعلقات میں تھے۔
انہوں نے مدد کی اور بڑے بھائی کی اچھی نوکری لگ گئی۔
نوکری کے بعد بڑے بھائی نے کاروبار کی طرف آنا شروع کیا۔
ابتدا میں والد صاحب نے اعتماد کرتے ہوئے انہیں کاروبار سنبھالنے دیا، اور میں صرف ریکوری اور حساب کتاب تک محدود ہو گیا۔
آہستہ آہستہ تمام کنٹرول، کھاتے، کیش، گاڑیاں، پلاٹ اور دیگر چیزیں بڑے بھائی کے ہاتھ میں آ گئیں۔
لیکن جب بوجھ اور ذمہ داری بڑھتی گئی تو حالات بگڑنے لگے۔
پھر نشہ اور غلط راستے بھی دوبارہ زندگی میں آ گئے۔
وقت گزرتا گیا اور بڑے بھائی نے دونوں چھوٹے بہن بھائیوں سمیت سب کچھ لے کر شہر چھوڑ دیا۔
وہ تقریباً پانچ سے چھ سال باہر رہے۔
واپسی پر انہوں نے خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا۔
اس کے بعد ایک بار پھر خاندانی فیصلہ ہوا۔
کہ ایک پلاٹ بیچ کر تینوں بھائیوں کو برابر کاروبار دیا جائے۔
فیصلے پر عمل ہوا، مگر وقت کے ساتھ سب کو کاروبار مل گیا، سوائے میرے۔
آج چار سال گزر چکے ہیں، میں ابھی تک اسی انتظار میں ہوں۔
جب میں بات کرتا ہوں تو والد صاحب کہتے ہیں کہ “میں نے تمہیں پیسے دیے تھے، حساب موجود ہے۔”
حالانکہ مجھے ایک لاکھ روپے دیے گئے تھے، جب میں سعودی عرب گیا تھا، اور دو لاکھ تعلیم کے لیے۔
میں نے اسی میں سے اپنی تعلی
م مکمل کی، تاکہ پیسے ضائع نہ ہوں۔
باقی معاملات میں بڑے بھائی کو بھی انویسٹمنٹ دی گئی، جس سے آج وہ رقم بڑھ چکی ہے۔
مگر جب بات ذمہ داری کی آتی ہے تو ہر کوئی اپنی بات بدل لیتا ہے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ بڑے بھائی بھی مجھ سے سوال کرتے ہیں، اور والد صاحب بھی یہی کہتے ہیں کہ سب کچھ دے دیا گیا۔
اور میں…
بس زندگی کو چلتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔
یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی…
یہ ابھی چل رہی ہے۔


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں