سردارِ وفا: بیرسٹر علی رضا خان دریشک کے سنگ یادوں کا سفر

 بلاگر پر جاری میری اس زندگی کی کہانی میں ایک ایسے اہم کردار کا ذکر اب تک تشنہ تھا، جن کے بغیر میری شخصیت اور میرے حالات کی عکاسی ادھوری ہے۔ وہ ہستی، جن کا تذکرہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور میرے دل کی آواز بھی؛ یعنی ہمارے علاقے کے قابلِ احترام سردار، بیرسٹر علی رضا خان دریشک صاحب۔

​رفاقت کا آغاز اور قربت کے سال

​میری ان سے قربت کا باقاعدہ آغاز اس وقت ہوا جب وہ ضلع راجن پور کے ضلع ناظم منتخب ہوئے۔ اس کے بعد وہ ایم پی اے بھی رہے، لیکن میرے لیے وہ صرف ایک سیاست دان نہیں بلکہ ایک سائبان ثابت ہوئے۔ تب سے لے کر آج تک، میری زندگی کا ہر نشیب و فراز ان کی قربت میں گزرا۔ میں نے جب بھی ملازمت کی، انہی کے زیرِ سایہ کی اور آج بھی ان کے پرسنل اسسٹنٹ (PA) کے طور پر فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے مجھے کبھی یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ میں ایک ملازم ہوں؛ انہوں نے ہمیشہ مجھے برابری اور عزت کا مقام دیا۔

​ایک ہمہ گیر شخصیت: بھائی، استاد اور رہبر

​ہم نے زندگی کے سکھ دکھ اکٹھے دیکھے ہیں۔ وہ میرے لیے صرف ایک باس نہیں، بلکہ:

​سگے بھائی کی طرح شفیق ہیں۔

​استاد کی طرح زندگی کے گُر سکھانے والے ہیں۔

​لیڈر کی طرح درست سمت دکھانے والے ہیں۔

​میری بچپن کی یادیں ہوں، جوانی کی تگ و دو ہو یا موجودہ دور کی ذمہ داریاں، میری زندگی کا ہر نقش ان کی صحبت میں پروان چڑھا ہے۔ آج بھی حالات جیسے بھی ہوں، اللہ پاک کی ذات کے بعد دنیا میں اگر کوئی ایسی ہستی ہے جس سے میں ہر سوال کر سکتا ہوں اور ہر بات بانٹ سکتا ہوں، تو وہ بیرسٹر صاحب ہی ہیں۔

​خلوص اور رابطے کی مجبوریاں

​کبھی کبھار ان کی طرف سے جواب آنے میں تاخیر ہو جاتی ہے، لیکن میں ان کی اس مجبوری کو بخوبی سمجھتا ہوں۔ وہ خود میں ایک برانڈ اور قد آور شخصیت ہیں، ہر شخص ان سے براہِ راست تعلق کا خواہشمند ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وقت کی کمی اور 'کمیونیکیشن گیپ' آنا فطری ہے۔ لیکن ان کی خاموشی میں بھی ایک اپنائیت ہوتی ہے۔

​حرفِ آخر: اللہ کا انعام

​دنیا میں جب میں نے رشتوں کے بدلتے رنگ اور انسانوں کے دوغلے چہرے دیکھے، تو میرا یہ ایمان پختہ ہو گیا کہ اللہ پاک نے ان تلخ تجربات کے بدلے میں مجھے جو چند نایاب لوگ عطا کیے، ان میں سب سے نمایاں نام بیرسٹر علی رضا خان دریشک کا ہے۔ میری جوانی، میرا وقت اور میری تمام تر وفائیں ان کے لیے حاضر ہیں۔ وہ میرے محسن ہیں اور ان کا ساتھ میری زندگی کا حاصل ہے۔

​تحریر: محمد عب



ید درانی (UD)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حسد کیوں خطرناک ہے؟ دل، سوچ اور زندگی تباہ ہونے کی حقیقت

آخر سچا سبق یاد ہوا | صبر، قربانی اور اخلاق