"خاموشی کے پیچھے چھپی چیخ"تحریر: محمد عبید درانی (UD) © All Rights Reserved | Copying without permission is prohibited
کہانی:
اس نے بالکل چپ سادھ لی تھی۔
اب اسے ہر چیز سے خوف آنے لگا تھا…
ہر قدم، ہر لفظ، ہر فیصلہ—جیسے کسی انجانے اندھیرے کی طرف جا رہا ہو۔
"یہ کروں تو غلط نہ ہو جائے…؟
کچھ ہو نہ جائے…؟"
ایسے سوالات اس کے اندر مسلسل گونجتے رہتے تھے۔
ہر لمحہ، ہر سانس، ایک انجانا ڈر بن چکا تھا۔
اس نے خود کو ایک کمرے تک محدود کر لیا۔
دنیا سے دور…
مگر اپنے بچوں کے قریب۔
بڑی بیٹی، امامہ زینب درانی—
اس کے نویں جماعت کے بورڈ کے امتحانات شروع ہو چکے تھے۔
وہ کسی صورت نہیں چاہتا تھا کہ اس کی پریشانیوں کا سایہ اس کی بیٹی کے مستقبل پر پڑے۔
اس کی ہر کوشش، ہر دعا صرف ایک ہی مقصد کے لیے تھی:
"میری بیٹی کے نمبر کم نہ ہوں…"
چھوٹی بیٹی، میرب فاطمہ درانی—
جو اس سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔
اکثر بیمار رہنے کی وجہ سے وہ اس کے معاملے میں اور بھی زیادہ حساس ہو چکا تھا۔
اس کی ایک ہلکی سی تکلیف بھی اس کے دل کو ہلا دیتی تھی۔
اور پھر علی حسین درانی—
اکلوتا بیٹا، درمیان والا۔
ایک غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک۔
ڈرائنگ، خاکے، تصویریں—
وہ اپنے ہاتھوں سے ایسی چیزیں بنا لیتا تھا جیسے کوئی فنکار ہو۔
قدرت نے اس کے اندر کچھ خاص رکھا تھا۔
بیگم ایک اسکول ٹیچر تھی—
مگر اسے آج تک یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کی بیگم کی تنخواہ کیا ہے۔
وہ کبھی پوچھتا ہی نہیں تھا…
کیونکہ اس کے نزدیک
"گھر چلانا، سب کا خیال رکھنا—یہ اس کی ذمہ داری تھی۔"
وہ اپنی خواہشات قربان کر کے
بیوی، بچوں، والد، بہن بھائی—
سب کی ضروریات پوری کرتا رہا۔
وہ اس سب کو بوجھ نہیں سمجھتا تھا…
بلکہ اپنا فرض سمجھتا تھا۔
مگر اب…
وہ اندر سے ٹوٹ رہا تھا۔
خاموشی سے…
بغیر کسی شور کے…
اس کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں بچا تھا۔
نہ کوئی سہارا…
نہ کوئی ہم درد…
بس ایک ذات باقی تھی—
اللہ۔
وہ راتوں کو اٹھ کر روتا…
اپنے رب کو گواہ بناتا…
اپنے دکھ سناتا…
اور پھر خاموش ہو جاتا۔
اس نے جن لوگوں پر یقین کر کے پیسے لگائے تھے—
جنہوں نے واپسی کی گارنٹی دی تھی—
وہ بھی مکر گئے۔
اور ظلم یہ کہ…
ان حالات میں بھی وہی لوگ اس سے اپنے پیسے مانگنے لگے۔
یہ سب کچھ اس کے اندر کو مزید توڑ رہا تھا۔
مگر…
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
اختتام:
حساب ابھی تک باقی ہے…
یہ زندگی ابھی تک باقی ہے…
یہ کہانی بھی ابھی تک باقی ہے…

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں