خوفِ دخوفِ دل، خوفِ زندگی، خوفِ موت | اردو دل کو چھو لینے والی شاعری | محمد عبید درانی (UD)
خوفِ دل، خوفِ زندگی، خوفِ موت
اک خوف چھوڑ کر کتنے خوف پال لئے
تو یاد آیا تو سب خوف مٹ گئے
ہم نے تیرے سوا سب سہارے ٹال لئے
✍️ اصل تخلیق: محمد عبید درانی (UD)
© All Rights Reserved | بغیر اجازت نقل یا کاپی کرنا منع
خوفِ دل، خوفِ زندگی اور خوفِ موت انسان کے اندر موجود وہ کیفیتیں ہیں جو اکثر ہمیں کمزور کر دیتی ہیں۔
لیکن جب دل کسی سچے سہارے سے جڑ جائے تو تمام خوف مٹ جاتے ہیں۔
یہ شاعری انہی جذبات کی عکاسی کرتی ہے جہاں انسان دنیا کے سارے سہارے چھوڑ کر ایک ہی سہارے میں سکون پاتا ہے۔
✍️ اصل تخلیق: محمد عبید درانی (UD)
© All Rights Reserved | بغیر اجازت نقل یا کاپی کرنا منع ہے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں