کچھ لوگ باہر سے مضبوط ہوتے ہیں، اندر سے ٹوٹ چکے ہوتے ہیں

 کچھ لوگ درد چھپانے میں ماہر ہو جاتے ہیں


دنیا ہمیشہ اُن لوگوں کو مضبوط سمجھتی ہے

جو خاموش رہتے ہیں۔

جو ہر حال میں مسکرا دیتے ہیں۔

جو ہر تکلیف کے باوجود

لوگوں کے درمیان نارمل رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔


لیکن حقیقت یہ ہے

کہ بعض اوقات

سب سے زیادہ ٹوٹا ہوا انسان وہی ہوتا ہے

جو سب سے زیادہ خاموش ہوتا ہے۔


میں نے زندگی میں ہمیشہ لوگوں کے جذبات محسوس کیے ہیں۔

کسی کو اداس دیکھوں

تو دل خود اداس ہو جاتا ہے۔

کسی کو روتا دیکھوں

تو آنکھیں خود نم ہو جاتی ہیں۔


آج بھی فلموں اور ڈراموں کے emotional scenes

میرے دل پر اثر کرتے ہیں۔

کیونکہ شاید میرا دل

ابھی مکمل طور پر پتھر نہیں بنا۔


لوگ کہتے ہیں

“اتنا emotional نہیں ہونا چاہیے”

لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے

کہ احساس رکھنے والے لوگ

اس دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھاتے ہیں۔


کیونکہ وہ صرف اپنا درد نہیں جیتے،

وہ دوسروں کا درد بھی محسوس کرتے ہیں۔


میں نے ہمیشہ کوشش کی

کہ کسی کے لئے آسانی بن سکوں۔

جہاں کسی کو سہارا چاہیے تھا

وہاں سہارا دیا۔

جہاں کسی کو وقت چاہیے تھا

وہاں اپنا وقت دیا۔

جہاں کسی کو محبت چاہیے تھی

وہاں خلوص دیا۔


لیکن زندگی نے آہستہ آہستہ یہ سکھا دیا

کہ ہر اچھا انسان

ضروری نہیں اچھے لوگوں میں گھرا ہو۔


بعض لوگ

آپ کی خاموشی کو کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔

آپ کی نرمی کو استعمال کر لیتے ہیں۔

اور آپ کی وفاداری کو

اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں۔


پھر ایک وقت آتا ہے

جب انسان اندر ہی اندر تھکنے لگتا ہے۔


وہ پہلے کی طرح

اپنی تکلیف بیان نہیں کرتا۔

وہ پہلے کی طرح

شکایتیں نہیں کرتا۔

وہ صرف خاموش ہو جاتا ہے۔


اور بعض خاموشیاں

چیخوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔


کچھ دن پہلے

مجھے جسمانی چوٹیں بھی لگیں،

ذہنی دباؤ بھی برداشت کرنا پڑا،

اور دل بھی بہت ٹوٹا۔


لیکن حیرت یہ تھی

کہ کسی نے پوچھا تک نہیں۔


تب انسان کو سمجھ آتی ہے

کہ دنیا اکثر

صرف مضبوط نظر آنے والوں کو اکیلا چھوڑ دیتی ہے۔


لوگ سمجھتے ہیں

یہ شخص سنبھل جائے گا۔

یہ ٹھیک ہو جائے گا۔

اسے کسی کی ضرورت نہیں۔


حالانکہ حقیقت میں

بعض مضبوط لوگ

اندر سے سب سے زیادہ تھکے ہوئے ہوتے ہیں۔


میں نے پھر اپنی خاموشیوں کو لفظ دینا شروع کیے۔

اپنے درد کو poetry میں لکھنا شروع کیا۔

کیونکہ کچھ احساسات ایسے ہوتے ہیں

جو انسان بول نہیں سکتا۔


لفظ کبھی کبھی

انسان کی آخری پناہ بن جاتے ہیں۔


اور شاید اسی لئے

لکھنے والے لوگ

راتوں کو زیادہ جاگتے ہیں۔

زیادہ سوچتے ہیں۔

اور اندر ہی اندر

بہت کچھ برداشت کر رہے ہوتے ہیں۔


میں نے زندگی سے یہ سیکھا ہے

کہ اس دنیا میں

انسان کو خود survive کرنا پڑتا ہے۔


لوگ آپ کی کامیابی دیکھتے ہیں

آپ کی جنگ نہیں۔

لوگ آپ کی مسکراہٹ دیکھتے ہیں

آپ کے اندر کا درد نہیں۔


پھر بھی

میں آج تک لوگوں کے لئے برا نہیں سوچ سکا۔

آج بھی کسی کا دکھ دیکھوں

تو دل نرم ہو جاتا ہے۔


شاید یہی میری کمزوری بھی ہے

اور یہی میری انسانیت بھی۔


اور شاید اسی لئے

میں اب اپنی زندگی

اپنی تحریروں میں لکھتا ہوں۔


کیونکہ بعض لوگ بول نہیں پاتے…

صرف لکھتے ہیں۔


✍️ تحریر: محمد عبید درانی

© UD Explorer Diaries



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حسد کیوں خطرناک ہے؟ دل، سوچ اور زندگی تباہ ہونے کی حقیقت

آخر سچا سبق یاد ہوا | صبر، قربانی اور اخلاق