ہم سوچتے تھے، سمجھتے بھی تھے | Emotional Urdu Poetry About Reality & Emotions
ہم سوچتے تھے، سمجھتے بھی تھے | ایک تلخ حقیقت
کبھی کبھی انسان سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی
صرف دل کی وجہ سے ہار جاتا ہے۔
وہ حقیقت جانتا ہے، لوگوں کو پہچانتا بھی ہے،
مگر پھر بھی جذبات کے ہاتھوں مجبور رہتا ہے۔
ہم سوچتے تھے، سمجھتے بھی تھے
مگر فیصلہ دل کے حق میں نکلتا تھا
ہر بار جذبات کی عدالت میں
ذہن خاموش کھڑا رہ جاتا تھا
ہم نے لوگوں کو اپنا سمجھ کر چاہا
وہ ہمیں وقت سمجھ کر بدلتے رہے
کاش ذرا سمجھ دار ہوتے
چہرے پڑھ لیتے، لہجے سمجھ لیتے
تو شاید اتنی بار
اپنی ہی امیدوں سے نہ ہارتے
ہم احساس کی بارش میں بھیگتے رہے
اور حقیقت ہمیں دور سے دیکھتی رہی
دل ہر بار محبت لکھتا رہا
وقت ہر بار سبق دیتا رہا
بہت دیر بعد یہ سمجھ آیا
کہ ہر مسکراہٹ وفا نہیں ہوتی
اور ہر قریب انسان
دل کے قریب نہیں ہوتا
کچھ لوگ نصیب میں سبق بن کر آتے ہیں
اور انسان عمر بھر
انہیں اپنا سمجھتا رہ جاتا ہے
اب سیکھ لیا ہے
کہ خود کو ہر کسی پر لٹا دینا عشق نہیں
کبھی کبھی خاموشی، دوری
اور خود کو بچا لینا بھی ضروری ہوتا ہے
کیونکہ جو لوگ آپ کی قدر نہیں کرتے
وہ آپ کے ٹوٹنے کی آواز بھی نہیں سنتے
اب دل سے زیادہ
حقیقت کی سنی جاتی ہے
کیونکہ خواب خوبصورت ضرور ہوتے ہیں
مگر ہر خواب
زندگی نہیں بدلتا
— محمد عبید درانی (U D)
"If you love deep emotional Urdu poetry and reality-based writing, explore more posts on UD Explore Diaries."
#UrduPoetry #EmotionalPoetry #SadPoetry #RealityOfLife #UrduLines #DeepPoetry #Feelings #LifeQuotes #MuhammadUbaidDurrani #UDExploreDiaries


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں